ورلڈ فوڈ پروگرام نے امریکی بندرگاہ سے غزہ کیلئے امداد کی فراہمی معطل کردی

ورلڈ فوڈ پروگرام نے امریکی بندرگاہ سے غزہ کیلئے امداد کی فراہمی معطل کردی

اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام نے غزہ کے سمندر میں قائم کی گئی عارضی امریکی بندرگاہ کے ذریعے امداد کی فراہمی معطل کر دی ہے۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کی ڈائریکٹر Cindy McCain کی جانب سے امدادی سرگرمیاں معطل کرنے کا اعلان کیا گیا۔

خیال رہے کہ غزہ کی امریکی بندرگاہ سے اسرائیلی فوج کی جانب سے مغویوں کی رہائی کا آپریشن کیا گیا تھا جس کے دوران 274 فلسطینی شہید ہوگئے تھے۔

Cindy McCain نے بتایا کہ اسرائیلی حملے میں ورلڈ فوڈ پروگرام کے 2 گوداموں پر راکٹ برسائے گئے جبکہ عملے کا ایک فرد زخمی ہوگیا۔
عالمی ادارے کے مطابق غزہ میں بھوک کے شکار فلسطینیوں کی امداد کے لیے عارضی امریکی بندرگاہ قائم کی گئی تھی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ امدادی کارکنوں کی سکیورٹی کا جائزہ لینے کے لیے فی الحال کام روکا گیا ہے۔

یہ بندرگاہ مئی میں قائم کی گئی تھی اور ایک ہفتے تک کام کرتی رہی مگر پھر
سمندری طوفان کے باعث اسے 2 ہفتوں کے لیے بند کر دیا۔

سمندری گزرگاہ کی مرمت کے بعد اسے 8 جون کو دوبارہ فعال کیا گیا مگر اسی روز اسرائیلی فوجی نے اس کے راستے غزہ پر حملہ کیا۔

عرب میڈیا کے مطابق آپریشن کے لیے اسرائیلی فوجی حماس کی وردیوں میں آئے تھے اور فلسطینی لب و لہجے میں عربی بول رہے تھے۔

اسرائیلی فوجیوں نے اس جگہ کے قریب ایک گھر کرائے پر لیا جہاں مغویوں کو رکھا گیا تھا اور مقامی شہریوں میں گھل مل گئے تھے۔

حتمی آپریشن کے دن اسرائیلی فوج کا بڑا دستہ امدادی کارکنوں کے روپ میں آیا اور
اسرائیل نے یہ آپریشن امریکا اور برطانوی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیا۔

اس آپریشن میں 8 ماہ سے حماس کی قید میں موجود 4 اسرائیلی مغویوں کو رہا کرانے کا دعویٰ کیا گیا۔

اس آپریشن کے بعد ورلڈ فوڈ پروگرام نے امدادی سرگرمیاں معطل کر دی ہیں اور یہ واضح نہیں کیا گیا کہ امداد کی فراہمی دوبارہ کب شروع کی جائے گی۔

اس حوالے سے ورلڈ فوڈ پروگرام کی ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ ‘اسرائیلی کارروائی کے بعد ابھی ہمیں اپنے عملے کے تحفظ کی فکر ہے، ہمارے 2 گوداموں پر راکٹ برسائے گئے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘ابھی ہم کچھ دیر کے لیے پیچھے ہٹ رہے ہیں تاکہ امدادی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے سے قبل امداد کی محفوظ فراہمی کو یقینی بنا سکیں، مگر غزہ کے دیگر حصوں میں کام جاری رہے گا’۔

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے حملوں سے واضح ہوتا ہے کہ جنگ بندی کتنی ضروری ہے تاکہ غزہ میں امدادی سرگرمیاں بڑے پیمانے پر جاری رکھی جاسکیں۔

دوسری جانب اسرائیلی میڈیا نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ امریکی عارضی بندرگاہ پرحماس کے حملے کا خدشہ ہے، جس کے باعث وہاں حفاظتی اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں۔

امریکی دفاعی حکام کے مطابق غزہ کے ساحل پرکوئی امریکی فوجی اہلکار نہیں گیا،
امریکی دفاعی حکام کے مطابق غزہ کے ساحل پرکوئی امریکی فوجی اہلکار نہیں گیا، جبکہ مغویوں کی رہائی کے لیے عارضی بندرگاہ کا جنوبی علاقہ استعمال ہوا۔

حکومت تشکیل پاتے ہی مودی کی مسلم دشمنی سامنے آنے لگی، کابینہ میں کوئی مسلمان شامل نہیں
دہلی: نو منتخب ہندو انتہا پسند بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی کابینہ میں کسی مسلمان رکن اسمبلی کو وزیر نہیں بنایا گیا جس سے ان کی مسلم دشمنی مزید واضح ہو گئی ہے۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق نریندر مودی حکومت کی 72 رکنی کابینہ میں 30 وزرا اور 41 وزرائے مملکت شامل ہیں، بھارت کی نئی مرکزی حکومت کی کابینہ کا پہلا اجلاس آج شام ہوگا جس میں کابینہ بھارتی صدر سے پارلیمنٹ کا سیشن جلد بلانے کی درخواست کرے گی
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق کابینہ میں 5 اقلیتی اراکین شامل ہیں مگر کسی مسلمان رکن کو شامل نہیں کیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نریندر مودی کی نئی کابینہ میں کسی مسلم وزیر کے نا ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کے علاوہ این ڈی اے اتحاد کی دوسری کسی دوسری جماعت سے بھی کوئی مسلمان الیکشن جیت کر رکن اسمبلی منتخب نا ہو سکا تاہم بھارتی آئین کے مطابق نریندر مودی کو یہ اختیار بھی حاصل تھا کہ وہ کسی بھی غیر منتخب شخص کو وزیر مملکت یا مشیر مقرر کر سکتے تھے جسے کے لیے 6 ماہ کے اندر الیکش لڑ کر منتخب ہونا ضروری تھا، تاہم انہوں نے ایسا کرنا بھی گوارا نہ کیا
حالیہ لوک سبھا الیکشن میں جو 24 مسلمان امیدوار کامیاب ہوکر رکن اسمبلی منتخب ہوئے ان میں سے 21 کا تعلق اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ سے ہے، ایک رکن کا تعلق انڈیا مجلس اتحاد مسلمین سے جبکہ 2 مسلمان امیدوار آزاد حیثیت میں کامیاب ہوکر لوک سبھا پہنچے۔

رپورٹ کے مطابق ماضی میں بھارتی کابینہ میں کم از کم ایک مسلمان وزیر لازمی ہوتا تھا، نریندر مودی کی 2014 اور 2019 میں بنائی گئی کابینہ میں بھی ایک، ایک مسلمان وزیر شامل تھا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق 2004 اور 2009 میں کانگریس کی حکومت میں بالترتیب 4 اور 5 مسلمان وزیر شامل تھے جب کہ 1999 میں بی جے بی کی اتحادی حکومت میں جب واچپائی وزیر اعظم تھے تب انکی کابینہ میں بھی 2 مسلمان وزیر شامل تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں